جہیز نہ ہونے سے لڑکیاں بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور
جہیز نہ ہونے سے لڑکیاں بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور جہیز نہ ہونے سے لڑکیاں بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور جہیز ایک فرسودہ رسم ہے جس کی وجہ سے بیشتر گھرانوں میں نوجوان لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوپارہی اور شادی ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ ایکسپریس سروے کے مطابق ہمارے اردگرد بے شمار سفید پوش گھرانے اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے پریشان نظر آتے ہیں، جہیز کی رسم ناسور کی طرح پورے معاشرے میں پھیل چکی ہے موجودہ دور میں جہیز شادی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں والدین کے گھر بن بیاہے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بے شمار لڑکیوں کے والدین کوجہیز کی رسم نے قرضوں میں دبادیا ہے، وقت پر شادی نہ ہونے سے بیشتر لڑکیاں اور خواتین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئی ہیں، لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے سے سماجی برائیاں، خودکشی، طلاق، چوری، پرتشدد اموات، دھوکا دہی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں بہتر رشتہ ملنے پر لڑکیوں کی منگنی ہو بھی جاتی ہے لیکن جیسے ہی لڑکے کو مالی طور پر مستحکم دوسرا گھر نظر آتا ہے تو لڑکی سے پہلی منگنی توڑ کو دوسرا رشتہ طے کرلیا جاتا ہے لڑکے اور اس کے اہل خ...